کد[3]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اصرار، ضد، ہٹ۔  اُن کو یہ کَد کہ کھینچ لیے جائیں دور تک ہم کو یہ ضد کہ بات جہاں ہے وہاں رہے      ( ١٩٤٨ء، آئینہ حیرت، ٧٥ ) ٢ - سعی، کوشش؛ فکر۔ "آج ہمارے سنسکرت کی جو یہ کد ہے کہ ہندوستانی زبان کے ہر ہندی یا سنسکرت لفظ کو اصل صحیح ہندی اور صحیح سنسکرت روپ میں دیکھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، سید سلمان ندوی، ٧٧ ) ٣ - دشمنی، کینہ، عداوت، مخالفت، بغض، بیر۔ "ان کی حیات جاوید پر تنقید کا اصل باعث ان کی سرسید سے کد ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی (سالنامہ)، ٢١٤ ) ٤ - سختی، تکلیف،رنج۔  تکلیف خمار حد سے گزری اب تک تو ہزار کد سے گزری      ( ١٨٩٣ء، دل و جان، ١٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصلی معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سعی، کوشش؛ فکر۔ "آج ہمارے سنسکرت کی جو یہ کد ہے کہ ہندوستانی زبان کے ہر ہندی یا سنسکرت لفظ کو اصل صحیح ہندی اور صحیح سنسکرت روپ میں دیکھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، سید سلمان ندوی، ٧٧ ) ٣ - دشمنی، کینہ، عداوت، مخالفت، بغض، بیر۔ "ان کی حیات جاوید پر تنقید کا اصل باعث ان کی سرسید سے کد ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی (سالنامہ)، ٢١٤ )

اصل لفظ: کدد
جنس: مذکر